نئی دہلی، 7/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے پر کانگریس ورکنگ کمیٹی 9 اگست کو میٹنگ کرے گی۔اس میٹنگ میں کانگریس جنرل سکریٹری، ریاستوں کے انچارج، پی سی سی صدر، سی ایل پی لیڈر، اے آئی سی سی محکموں اور سیل کے صدر اور کانگریس ایم پی موجود ہوں گے۔9 اگست شام 6 بجے کانگریس کی یہ میٹنگ نئی دہلی میں 15، گرودوارہ رکاب گنج دفتر میں ہوگی۔بتا دیں کہ آرٹیکل 370 کو لے کر کانگریس میں ہی اختلافات ہیں۔کانگریس کے کئی لیڈر آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں تو کئی لیڈر اس کی حمایت بھی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر کی تقسیم کے معاملے پر کانگریس پارٹی کے لیڈر منقسم دیکھے جا سکتے ہیں۔ایک طرف جہاں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کانگریس اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف پارٹی کے کئی لیڈر اس فیصلے کے حق میں بول رہے ہیں،اگرچہ پارٹی کے سینئر لیڈروں نے اس خیال کی مخالفت کی ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد نے پارٹی کے ساتھیوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جموں کشمیر اور کانگریس کی تاریخ نہیں جانتے ہیں، انہیں پارٹی میں نہیں رہنا چاہئے۔پارلیمنٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ وہ لوگ جو جموں کشمیر اور پارٹی کی تاریخ کو نہیں جانتے ہیں، مجھے ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،انہیں جموں کشمیر کے ساتھ کانگریس کی تاریخ کو پڑھنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہی انہیں پارٹی میں رہنا چاہیے۔آزاد کا تبصرہ کانگریس کے سینئر لیڈر جناردن دویدی، سابق ایم پی دپندر سنگھ ہڈا، اتر پردیش کے رکن اسمبلی آدتیہ سنگھ اور ابھیشیک منو سنگھوی جیسے کئی رہنماؤں کے بیان کے بعد آیا ہے۔ان لیڈروں نے آرٹیکل370 منسوخ کرنے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکز کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔