ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آرٹیکل 370 پر لوک سبھا میں کانگریسی لیڈر منیش تیواری نے مودی حکومت کو گھیرا، اٹھائے کئی سوال 

آرٹیکل 370 پر لوک سبھا میں کانگریسی لیڈر منیش تیواری نے مودی حکومت کو گھیرا، اٹھائے کئی سوال 

Tue, 06 Aug 2019 23:19:14    S.O. News Service

نئی دہلی،06/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو لوک سبھا میں جموں کشمیر ریاست کی تشکیل نو کرکے جموں و کشمیر اور لداخ کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے اور آرٹیکل 370 کی زیادہ تر دفعات کو ختم کرنے کی تجویز سے متعلق قرارداد پیش کیا۔وزیر داخلہ کی جانب سے پیش قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے صدر نے ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت اس ایوان میں جموں کشمیر تشکیل نو بل 2019 غور کے لیے بھیجا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ 19 دسمبر 2018 کو صدر کی اعلان کے بعد جموں کشمیر ریاست مقننہ کی طاقت اس ایوان کے پاس ہے۔یہ ایوان جموں کشمیر تشکیل نو بل 2019 کو غور کیلئے قبول کرتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ صدر کی منظوری کے بعد آرٹیکل 370 کے تمام سیکشن نافذ نہیں ہوں گے۔کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری اور ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو نے قرارداد پیش کئے جانے کی مخالفت کی۔بالونے کہا کہ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے۔ وہیں منیش تیواری نے آرٹیکل 370 پر بات چیت کرتے ہوئے مودی حکومت پر زبردست جوابی حملہ کیا ہے۔انہوں نے مودی حکومت پر جم کر حملہ کیا اور سوال پوچھے۔انہوں نے کہا کہ آج ضروری ہے کہ تاریخ کو نوٹس میں لیا جائے۔ 1846 میں انگریزوں اور مہاراجہ دلیپ سنگھ کے ساتھ جنگ ہوئی اور لاہور کے معاہدے ہوئے تھے۔اس کے بعد امرتسر کا معاہدہ  ہوا تھا  جس میں بیاس اور سندھو ندی کے علاقے میں مہارج گلاب سنگھ نے 75 لاکھ روپے میں انگریزوں کو دے دی۔ 1866 سے لے کر 1947 تک جموں و کشمیر ریاست چلتی رہی۔لیکن بٹوارے کے بعد ہندوستان۔پاکستان بنے اور ریاستیں تھی۔جس میں کچھ ہندوستان میں شامل ہوئیں اور کچھ پاکستان۔لیکن تین ریاستیں جموں و کشمیر، حیدرآباد اور جونا گڑھ کو لے کر تنازعہ ہوا۔جموں و کشمیر کے راجہ ہری سنگھ ہندوستان میں ضم کو لے کر تذبذب کی حالت میں تھے۔لیکن اسی درمیان پاکستان نے حملہ کر دیا۔مہاراج ہری سنگھ نے بھارت سے مانگی 27 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ضم معاملے پر دستخط کیا۔تب ہندوستان کی فوج پاکستانیوں کو بھگانے کے لئے میدان میں اتری۔دو سال تک جنگ جاری رہی۔اس لیے ہندوستان میں جموں و کشمیر کا اٹوٹ حصہ بنانے والی حکومت پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت کی تھی۔لیکن ہندوستان کے ساتھ انضمام کے وقت کچھ معاہدہ ہوا تھا۔31 اکتوبر 1951 اور 17 نومبر 1956 کے درمیان جموں و کشمیر کی اسمبلی نے ریاست کا آئین بنا۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ تیواری نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ضم معاملے میں دفعہ 370 اور آئین شامل ہے۔تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔370 کا مطلب ہے کہ ریاست کے لوگوں سے صلاح مشورہ کیا جائے۔لیکن آج اسمبلی نہیں ہے۔سیکشن تین یہ نہیں کہتا ہے پارلیمنٹ کسی بھی ریاست کی حدود طے کرنے کا فیصلہ کرے۔جموں و کشمیر کو تشکیل نو کا فیصلہ سیکشن 3 کے خلاف ہے۔تیواری نے کہا بغیر آئینی اسمبلی کے آرٹیکل 370 کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ آج جب آرٹیکل 370 کو ختم کر رہے ہیں تو آج آپ شمال مشرقی ہندوستان کی ریاستوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ کل کو آپ آسام تریپورہ ناگالینڈ کے حقوق آرٹیکل 371 ختم کرکے لیں گے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کاایک مختلف آئین ہے جو 26 جنوری 1957 کو نافد ہوا تھا تو اس کا کیا ہوگا۔کیا حکومت اس کے لئے علیحدہ بل لے کر آئے گی۔تیواری نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی صوبہ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کی گئی ہے۔یہ وفاقی ڈھانچے پر بہت بڑا حملہ ہے۔اگر آج جونا گڑھ، حیدرآباد اور جموں و کشمیر آج ہندوستان کا حصہ ہیں تو وہ پنڈت جواہر لال نہرو کی وجہ سے ہیں۔


Share: