ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آرٹیکل 35اے پر عمر عبداللہ کا انتباہ، اروناچل پردیش سے خراب ہو جائیں گے حالات

آرٹیکل 35اے پر عمر عبداللہ کا انتباہ، اروناچل پردیش سے خراب ہو جائیں گے حالات

Tue, 26 Feb 2019 00:00:09    S.O. News Service

نئی دہلی، 25 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کشمیر کو زمین اور مستقل رہائش پر خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 35اے کو ختم کئے جانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان ریاست کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا ہے۔عمر نے پیر کو کہا کہ مرکزی حکومت ایسا فیصلہ کرتی ہے تو وادی میں اروناچل پردیش سے بھی خراب حالات ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو جموں کشمیر میں انتخابات کرانے پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔بتا دیں کہ 35اے کا معاملہ اب سپریم کورٹ کے دروازے پر بھی ہے،کورٹ اسی ہفتے اس پر سماعت کرے گا۔عمر عبداللہ نے کہاکہ مرکزی حکومت اور گورنر کی ذمہ داری ریاست میں انتخابات کروانا بھر ہے،لہذا انتخابات ہی کرائیں، لوگوں فیصلہ لینے دیں،نئی حکومت خود ہی آرٹیکل 35اے کو محفوظ بنانے کی سمت میں کام کرے گی۔ 

عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پانچ سال کے بعد انتخابات کروا پانا کشمیر کے حالات سے وزیر اعظم نریندر مودی کے نمٹنے کی جانچ کرے گا۔عبداللہ نے ٹویٹر پر کہاکہ کیا مودی حکومت علیحدگی قوتوں اور دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے گی جو جموں و کشمیر میں ہمیشہ سے ہی انتخابات میں رکاوٹ اور تاخیر پہنچاتے ہیں یا پھر انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے؟ یہ وقت وزیر اعظم مودی کے لئے گزشتہ پانچ سالوں میں کشمیر کو سنبھالنے کی پرکھ کا ہے۔ عبداللہ نے ان میڈیا رپورٹس پر رائے کا اظہار کر رہے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے الیکشن کمشنر اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کیا ریاست میں لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ریاست کے انتخابات بھی کرایا جائے۔عبداللہ نے کہا کہ ایک بار کو چھوڑ کر ریاست میں 1995۔96 سے الیکشن مقررہ مدت میں ہوتے رہے ہیں۔

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی پٹیشن پر سپریم کورٹ اسی ہفتے سماعت کرے گا۔عدالت عظمی نے 26۔28 فروری کے درمیان معاملے کو سماعت کے لئے درج کیا ہے۔ذرائع کے مطابق مودی حکومت عام انتخابات سے پہلے آرٹیکل 35 اے پر سخت موقف اپنا سکتی ہے۔آرٹیکل 370 کو حذف کرنا بی جے پی کا ہمیشہ سے سیاسی موقف بھی رہا ہے،اگرچہ بی جے پی کی اتحادی جے ڈی یو اور اکالی دل اس کی مخالف رہی ہیں۔

بتا دیں کہ کئی سیاسی جماعتیں اور تنظیم ڈیمو گرافی میں تبدیلی کا حوالہ دے کر آرٹیکل 35اے کو ختم کرنے کے خلاف ہیں۔ریاست کے سابق وزیر اعلی نے بھی کہا کہ مرکزی حکومت اگر ایسا کوئی قدم اٹھاتی ہے تو یہاں حالات بہت خراب ہو جائیں گے۔عمر نے کہاکہ یہ کوئی دھمکی نہیں ہے،میں نے صرف واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسے دھمکی نہ سمجھا جائے، یہ انتباہ ہے۔آرٹیکل 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو یہاں اروناچل پردیش سے بھی خراب حالات ہو جائیں گے۔ 

آرٹیکل 35اے جموں و کشمیر کی اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہری کی تعریف طے کرنے کا حق دیتا ہے۔ریاست میں 14 مئی 1954 کو اسے لاگو کیا گیا تھا۔یہ آرٹیکل آئین میں بنیادی طور پر نہیں تھا۔ریاست کے مستقل شہری کو کچھ خصوصی حقوق ہوتے ہیں۔غور طلب ہے کہ دفعہ 35 اے کے تحت جموں و کشمیر میں وہاں کے اصل باشندوں کے علاوہ ملک کے کسی دوسرے حصے کا شہری کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا ہے،اس سے وہ وہاں کا شہری بھی نہیں بن سکتا ہے۔


Share: