نئی دہلی،25؍مئی(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) ہندوستانی مخصوص شناخت اتھارٹی (یوآئی ڈی اے آئی )نے آدھار ڈیٹا کی حفاظت کو چاک چوبند بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے ڈیٹا بیس کے لئے اعلیٰ سطحی سرٹیفیکیشن کا اہتمام کیا ہے۔یوآئی ڈی اے آئی کے چیئرمین جے ستیہ نارائن نے ایک پروگرام میں کہا کہ آدھار ڈیٹا بیس کے لئے بہترین سیکورٹی، جدید انکرپشن اور کثیر سطحی سرٹیفیکیشن کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آدھارکے ڈیٹا سینٹرز کے لئے سیکورٹی کی بہترین سسٹم اپنائی گئی ہیں۔اب تک 121.17 کروڑ شہریوں کے آدھارکے لئے نامزدگی کی گئی ہے۔ابھی حال ہی میں ہندوستانی مخصوص شناخت اتھارٹی (یوآئی ڈی اے آئی)نے آدھارکے رجسٹریشن سافٹ ویئر میں چھیڑ چھاڑ کی رپورٹ کے درمیان کہا کہ وہ آدھارجاری کرنے کے لئے سخت رجسٹریشن اور اپ ڈیٹ کی کارروائی پر عمل کرتا ہے۔اتھارٹی نے مختلف خلاف ورزیوں کے لئے 50,000 سے زیادہ آپریٹرز کو بلیک لسٹ میں ڈالا ہے۔چھیڑچھاڑ سے متعلق دعووں کو’بے بنیاد اور غلط‘قرار دیتے ہوئے اتھارٹی نے کہا کہ سافٹ ویئر ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ لیس ہے اور کسی بھی طرح کی رکاوٹ سے بچنے کے لئے وقت وقت پر چیک کرتا ہے۔ یوآئی ڈی اے آئی کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد آیا، جن میں آدھاررجسٹریشن سافٹ ویئر میں مبینہ طورپرچھیڑچھاڑ اور ان سے حاصل اعداد و شمار کی کالا بازاری کی باتیں سامنے آئی تھیں۔اس میں کہا گیا تھا کہ یہ کسی بھی دستاویزات کے بغیر آدھار کارڈ جاری کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور آپریٹرز کے تصدیق کرنے کو نظر انداز کرتا ہے۔آدھار جاری کرنے والی تنظیم یوآئی ڈی اے آئی نے عمل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اپنی ’زیرو ٹلریس پالیسی‘پر زور دیا۔ساتھ ہی کہا کہ اگر کوئی آپریٹر مقرر عمل کی خلاف ورزی کرتے یا کسی جعلسازی یا غلط سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا اور اس پر ایک لاکھ روپے فی معاملے تک مالی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔