ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں /  تریپورہ تشدد:دہلی کی دو خواتین صحافیوں کیخلاف ایف آئی آر،مبینہ تشدد بھڑکانے کاالزا م  

 تریپورہ تشدد:دہلی کی دو خواتین صحافیوں کیخلاف ایف آئی آر،مبینہ تشدد بھڑکانے کاالزا م  

Sun, 14 Nov 2021 22:00:15    S.O. News Service

اگرتلہ،14نومبر (آئی این ایس انڈیا) تریپورہ پولیس نے اتوار کے روز دہلی میں مقیم دو صحافیوں کو فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کے الزام میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ریاست چھوڑنے سے روک دیاہے۔ ان خاتون صحافیوں کی شناخت سمریدھی،کے سکونیا اور سورنا جھا  کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے انہیں اپنا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے نوٹس دیا ہے۔ وہ جمعرات کو ریاست میں مبینہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو  کور کرنے کے لیے پہنچی تھیں۔ٹائمز آف انڈیا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تریپورہ پہنچنے کے بعد وہ ادے پور کے گومتی ضلع کے’کاکرابن‘گئی تھیں، پھر مغربی تریپورہ اور سپاہی جالا اضلاع کے اقلیت (مسلمان)اکثریتی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔بعد میں وہ ہفتہ کو اُونوکوٹی ضلع کے فاتی کروئے گئیں، جہاں پال بازار کے علاقہ میں ایک زیر تعمیر مسجد کو ایک ہندو گروپ نے توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایاتھا۔پولیس کے مطابق فاتی کروئے پولیس اسٹیشن نے ہفتہ کی رات سمریدھی اور سورنا کے خلاف مقامی مسلمانوں کو اکسانے اور انہیں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کیخلاف بیان دینے پر مجبور کرنے کی شکایت کے بعد ایف آئی آر درج کی ہے۔ الزام یہ لگایا گیا ہے کہ ان خاتون صحافیوں نے مسلمانوں سے یہ بیان دینے کومجبور کیا کہ 23 اکتوبر کو پال بازار مسجد کو وی ایچ پی نے جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے آگ لگا ئی تھی۔اس کے بعد دونوں صحافیوں نے ضلع چھوڑ دیا اور شمالی تریپورہ کے ضلع ہیڈکوارٹر دھرمن نگر کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے جہاں آئی پی سی کی دفعہ 153-A اور 120 (B) مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان تشدد کے فروغ دینے اور مجرمانہ سازش کا حصہ ہونے کے الزام میں ایف آئی آر درج کیا گیا۔ پولیس اطلاع دینے رات کو ان کے ہوٹل پہنچی، تاہم کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جب پولیس رات کو ان کے پاس پہنچی تو انہیں نوٹس نہیں ملا۔ایک سینئر پولیس افسر نے کہاکہ انہوں نے دہلی میں ایک وکیل کو فون کیا۔د وہ دہلی جانے کے لئے اپنے اگلے سفر کی خاطر صبح سویرے اگرتلہ کے لیے لوکل ٹرین پکڑنے کا ارادہ کر رہے تھے، لیکن پولیس نے انھیں ہوٹل میں روک دیاہے۔ کچھ دیر بعد ایک وکیل آیا اور پھر انہیں نوٹس ملا اور ہم نے انہیں اگرتلہ جانے کی اجازت دی، جہاں انہیں 21 نومبر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانا ہوگا۔ 


Share: