ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف بھٹکل پولس اسٹیشن کے باہر احتجاج؛ اے ایس پی کو دی گئی تحریری شکایت

محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف بھٹکل پولس اسٹیشن کے باہر احتجاج؛ اے ایس پی کو دی گئی تحریری شکایت

Tue, 15 Oct 2019 17:38:28    S.O. News Service

بھٹکل 15/اکتوبر(ایس او نیوز) جنگلاتی زمین کے حقوق کے لئے لڑنے والی ہوراٹا سمیتی کے کارکنان نے آج بھٹکل ٹاون پولس تھانہ کے باہر جمع ہوکر محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا اور بھٹکل سب ڈیویژن کے اسسٹنٹ ایس پی  کے نام میمورنڈم پیش کیا۔ 

ہوراٹا سمیتی کے ضلعی صدر ایڈوکیٹ رویندرا نائک کی قیادت  میں سو سے زائد لوگ بھٹکل ٹاون پولس تھانہ کے باہر جمع ہوئے اور  اسسٹنٹ ایس پی کی غیر موجودگی پر تھانہ انچارج پی ایس آئی کوڈگُنٹی کو بتایا کہ   محکمہ جنگلات کے اہلکار آتی کرم داروں کے مکانوں پر پہنچ کر لوگوں کو تنگ  و ہراساں کرنے میں مصروف ہیں، لہٰذا تمام آتی کرم داروں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور جو بھی اہلکار لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اُن کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ احتجاج کرتی خواتین نے بتایا کہ  اہلکاروں کے گھروں میں آنے کی کوئی ٹائمنگ نہیں ہے، شام سات بجے بھی آتے ہیں ، رات کے اوقات میں بھی آتے ہیں اور زور زبرستی کرکے لوگوں کو ہراساں کرتے ہیں۔

اس موقع پر ایڈوکیٹ رویندرا نائک نے بتایا کہ  بھٹکل میں اتی کرم داروں کو محکمہ جنگلات کے افسران کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی وارداتیں روز کا معمول بن گئی ہیں۔ اس تعلق سے  ہوراٹاسمیتی کی طرف سے کئی بار احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران سے شکایات کی گئیں۔ محکمہ پولیس کے افسران سے اس پر قابو پانے کی گزارش کی گئی، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

 بھٹکل اے ایس پی کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے انہوں نے  قانون اور سرکاری احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  ہے کہ اتی کرم داروں کی درخواستیں ابھی زیر غور ہیں۔ قانونی طور پر تین ایکڑ سے کم زمین پر قبضہ رکھنے کو خالی کروانے یا پھر ان پر زور زبردستی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود محکمہ جنگلات کے واچ مین  اور دیگر کم درجوں پر فائز افسران کسی نہ کسی بہانے سے اتی کرم داروں کو ہراساں کررہے ہیں۔ میمورنڈم میں انہوں نے بتایا ہے کہ شہر بھٹکل کے اطراف جالی، بیلکے جیسے علاقوں میں محکمہ جنگلات کے افسران گھروں کے کمپاؤنڈ، دیواروں یا پھرفصلوں کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔جو مکانات اور عمارتیں پہلے ہی سے تعمیر شدہ ہیں وہاں پہنچ کر لوگوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت دی جارہی ہے۔ اس طرح محکمہ کے افسران کی طرف سے صریح طور پر قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور جنگلاتی زمین پر اتی کرم کرنے والوں خوف میں مبتلا کیا جا رہا  ہے۔

میمورنڈم میں بھٹکل میں پیش آئے ہوئے تازہ 16 معاملات کا حوالہ دیاگیا ہے جس میں گھر نمبر 783جالی روڈ کے مکین خان میر صاحب باغ  سراج،  جامعہ آباد جنتاکالونی کی مکین رحیمہ شاہ بندری ،  امین الدین روڈ مدینہ کالونی کے رہنے والے محمد فیصل،  گورٹے کے مہادیو گوند موگیر،  یلوڈی کوور کے شریدھر سومیا  جوگی وغیرہ کے نام شامل ہیں جن  کو محکمہ جنگلات کے افسران نے ہراساں کیا ہے۔

 میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ  بھٹکل میں  جنگلاتی زمین پر  برسہا برس سے بڑی تعداد میں لوگ  رہتے آرہے ہیں اور یہ  لوگ  ان زمینات کو کھیتی باڑی اور رہائش کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سمیتی   ایسے اتی کرم داروں کو قانونی حقوق دلانے کے لئے  سرگرم ہے۔

اے ایس پی کے نام  میمورنڈم پیش کرنے کے بعد ضلع ہوراٹا سمیتی کے صدر ایڈوکیٹ رویندرا نائک نے بتایا  کہ انہوں نے پولیس سے شکایت کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کے خاطی افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور جن اتی کرم داروں نے اپنے حقوق کے لئے درخواستیں حکومت کو دی ہیں ان کو تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولس  نے میمورنڈم کو  قبول کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ وہ اعلیٰ پولیس افسران سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے اور اس ضمن میں مناسب اقدامات کریں گے۔

اس موقع پر ہوراٹا سمیتی کی طرف سے  ایڈوکیٹ رویندرا نائک کے ساتھ سید علی،  دیوراج گونڈا،  پانڈو نائک، لکشمی پجاری، عبدالقیوم، محمد رضوان و دیگر کافی لوگ موجود تھے۔


Share: