سرسی:19/ جنوری (ایس اؤنیوز) ریاستی آنگن واڑی ملازمین سنگھ کی قیادت میں آشا گرم کھانا کی کارکنان نے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے دفتر کے روبرو بدھ سے شروع کیاگیا دن رات کا احتجاج جمعرات کی دوپہر ختم ہوا۔
احتجاج ختم ہونے سے پہلے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست کے 4مرکزی وزراء کے گھروں اور دفترو ں کے سامنے احتجاج کا اہتمام کیا گیا تھا۔ وزراء رمیش جگجنگی ، بنگلورو کے اننت کمار اور ڈی وی سدانند گوڈا نے احتجاجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل کی سماعت کی اور مرکز پر دباؤ ڈالنے کا تیقن دیاہے ، مگر یہاں رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے موبائیل کے ذریعے ہمیں رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی، احتجاج کی اطلاع انہیں قبل از وقت دی گئی تھی ، موصوف وزیر کو آئندہ مزدوروں کے متعلق فکر جتانے کی بات کہی۔
متعلقہ پیشہ سے وابستہ کارکنان کی بہتری کے لئے صحت، تعلیم اور غذائی منصوبہ جات کو خانگیانے نہیں کرنے کا مطالبہ لے کر بدھ کی صبح سے ہی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے دفتر کے سامنے بلاری، کوپل، گدگ، ہونلی ، بیاڈگی ، دکشن کنڑا، اترکنڑا، شیموگہ ، اُڈپی سے آئے ہوئے ہزاروں آنگن واڑی کارکنان احتجاج میں شریک ہونے والوں میں سے کچھ لوگ اپنے گاؤں لوٹ گئے تو قریب 700سے زائد کارکنان رات کو سڑک پر ہی سوتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ وزیر شہر میں نہیں ہونےکی وجہ سے احتجاج ختم کیاگیا اور آئندہ دنوں میں مختلف مرحلوں کے تحت احتجاج کرنے کا فیصلہ لئے جانےکی جانکاری کارکنان ضلع سنگھ کی صدر یمونا گاؤنکر نے دی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی پالیسی بچوں اور عورتوں کے حق میں ہو۔ آئی سی ڈی ایس منصوبے کی کم کی گئی امداد دوبارہ جاری کریں اور آئندہ پیش ہونے والی مرکزی بجٹ میں امداد میں اضافہ کریں۔ کم سے کم 18ہزار روپئے تنخواہ ہو۔ 45ویں مزدور سمیلن کی سفارشات کو نافذ کرنےکا مطالبہ کیا۔ سنگھ کی ناگرتنا بلاری ، سدھا کونڈلی، ششی کلا پرانیک، جئے شری ہریکل ، ودھیا وئیدیا، شریمتی سداپور، لکشمی سدی، ہیمایلیگار، ناگپا نائک، سی آر شانبھاگ موجود تھے۔